The Essence of Muqaddamat-ul-Quran: A Critique of Modernity and the Call to Truth

مقدمۃ القرآن
یہ اقتباسات پروفیسر احمد رفیق اختر کی کتاب ’مقدمۃ القرآن‘ سے ماخوذ ہیں، جس میں انسانی تاریخ، مذہب اور دور حاضر کے فکری بگاڑ کا گہرا تجزیہ کیا گیا ہے۔ مصنف اس بات پر زور دیتے ہیں کہ صحیح رہنمائی ہمیشہ سے انبیاء کے ذریعے میسر رہی ہے، مگر آج کا انسان مغربی افکار کی اندھی تقلید اور نفسیاتی پیچیدگیوں کا شکار ہو کر اپنی اصل شناخت کھو چکا ہے۔ تحریر میں سرمایہ دارانہ نظام، لادینیت اور انسانی خود پسندی کے منفی اثرات کو بیان کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا ہے کہ جدیدیت کے نام پر ہم اخلاقی زوال کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ کتاب میں قرآنی تعلیمات کو ایک مکمل ضابطہ حیات کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو انسانی عقل کو مادہ پرستی کی قید سے آزاد کر کے حقیقت حق تک رسائی دیتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ متن انسانیت کو اپنے خالق سے تعلق جوڑنے اور عصری فکری انتشار سے بچنے کی پرزور دعوت دیتا ہے۔

انسانی تاریخ کبھی بھی مقدس نفوس (انبیاء) سے خالی نہیں رہی، جنہیں پروردگار نے حقیقی علم سے روشناس کرایا تاکہ وہ انسانوں کو خالق کے بتائے ہوئے صراط مستقیم پر چلا سکیں۔ ان کا مقصد انسانی فکر کو دنیاوی ترجیحات کے بجائے خدائی فکر اور ذکر سے جوڑنا تھا۔ شریعت اور انبیاء کی دعوت کا اصل مقصد ایک ایسے خدائی نظام کا قیام ہے جو عدل و انصاف، معاشی تحفظ اور اعلی اخلاقی اوصاف پر مبنی ہو۔ یہ نظام معاشرے کو ایک محفوظ چار دیواری فراہم کرتا ہے جہاں انسانی جان، مال اور عزت کا تحفظ یقینی ہو۔

 انبیاء نے انسانوں کو سماجی جبر، استبداد اور قبائلی تعصبات کی قید سے آزاد کرایا۔ انہوں نے انسانی ذہن کو توہمات اور خود ساختہ نظریات سے نکال کر کائناتی سچائیوں سے روشناس کرایا تاکہ وہ کسی بھی قسم کی ذہنی یا فکری غلامی کا شکار نہ ہوں۔ تمام الہامی دعوتوں کا ایک بنیادی مقصد انسان کو اس کے خالق کی پہچان کروانا اور اسے اپنی زندگی کے اصل مقصد یعنی بندگی سے آگاہ کرنا ہے۔ یہ علم انسان کو بتاتا ہے کہ اس کی تخلیق محض اتفاقیہ نہیں بلکہ ایک خاص مقصد کے تحت ہے۔ انبیاء کی دعوت کسی خاص گروہ یا قبیلے کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے ہے۔ یہ پیغام انسان کو مایوسی اور بے یقینی کے بادلوں سے نکال کر ایک درخشاں مستقبل کی نوید دیتا ہے۔ الہامی علم کا ایک اہم مقصد انسان کا تزکیہ کرنا ہے تاکہ وہ حیوانی جبلتوں سے بلند ہو کر اعلی انسانی رتبہ حاصل کر سکے۔ یہ علم انسان کو اپنی صلاحیتوں کو درست سمت میں استعمال کرنے کا ہنر سکھاتا ہے۔انبیاء کی دعوت دراصل انسانیت کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لانے کی ایک ایسی کوشش ہے جو انسان کو اس کے اصل مقام سے آگاہ کرتی ہے۔

اسے ایک استعارے سے یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ الہامی علم ایک ایسے روشن چراغ کی مانند ہے جو زندگی کے تاریک اور دشوار گزار راستوں میں نہ صرف منزل کا پتا دیتا ہے، بلکہ مسافر کو ٹھوکروں سے بچا کر سلامتی کے ساتھ اس کے اصل گھر تک پہنچا دیتا ہے۔

انبیاء نے انسانوں کو سماجی جبر، استبداد اور قبائلی تعصبات کی قید سے آزاد کرایا۔ انہوں نے انسانی ذہن کو ان خود ساختہ نظریات اور نسلی تفوق کے بتوں سے نکالا جو انسانیت کی تقسیم کا باعث بنتے تھے۔ انسانی ذہن صدیوں سے فلسفیانہ تانے بانے اور فکری دھوکے (فریب فکر) کا شکار رہا ہے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ بڑے بڑے فلاسفہ اور دانشوروں نے انسانیت کو بنیادی ترجیحات سے ہٹا کر لایعنی فلسفوں میں الجھائے رکھا۔ انبیاء نے انسانی عقل کو ان "مکڑی کے جالوں" جیسی فکری پیچیدگیوں سے نکال کر خالق کی پہچان کے سیدھے راستے پر ڈالا۔ انبیاء نے انسانوں کو ملا ئیت، پاپائیت، اور پیری فقیری کے نام پر ہونے والے استحصال سے نجات دلائی۔ انہوں نے انسانی ذہن کو جادو، تعویذ، باطل وظائف اور خرافات کی غلامی سے آزاد کر کے عقل اور مشاہدے کی دعوت دی۔ جدید دور میں انسان لا دینیت اور محض مادی اعداد و شمار کی فکری غلامی میں جکڑا ہوا ہے۔ انبیاء کی تعلیمات نے انسان کو بتایا کہ کائنات محض ایک مادی حادثہ نہیں بلکہ اس کا ایک حکیم و علیم خالق ہے، یوں انہوں نے انسانی ذہن کو مادہ پرستی کی محدود سوچ سے نکال کر کائناتی سچائیوں تک رسائی دی۔انبیاء نے انسانی عقل کو قدیم جاہلانہ رسم و رواج اور آباؤ اجداد کی اندھی تقلید کی زنجیروں سے نکالا۔ انہوں نے انسان کو یہ شعور دیا کہ وہ اپنی عقل اور بصیرت کو استعمال کرے نہ کہ صدیوں پرانے فرسودہ نظریات کا غلام بنا رہے۔

اس فکری آزادی کو ایک استعارے سے یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ انسانی ذہن ایک ایسے قیدی کی مانند تھا جو اپنی ہی بنے ہوئے خیالات کی اندھیری کوٹھڑی میں بند تھا؛ انبیاء کی دعوت نے اس کوٹھڑی کی دیواریں گرا دیں اور اسے توہمات کے اندھیرے سے نکال کر یقین کی کھلی اور روشن فضا میں لا کھڑا کیا۔

انبیاء کرام نے انسانی تاریخ میں فلسفیانہ الجھنوں اور فریب فکر کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک واضح اور غیر مبہم راستہ اختیار کیا۔ ذرائع کے مطابق سقراط سے لے کر رسل تک، فلسفیوں اور دانشوروں نے اکثر انسانی ذہن کو ثانوی اور فکری تانے بانوں میں الجھا کر بنیادی ترجیحات سے منحرف کر دیا تھا۔ انبیاء نے ان فلسفیانہ الجھنوں کا مقابلہ کرتے ہوئے انسان کو دوبارہ اس کے اصل مقصد یعنی خالق کی پہچان اور بندگی کی طرف بلایا اور اسے ذہنی آوارگی سے بچایا۔ فلسفہ اکثر تشکیک اور ابہام پیدا کرتا ہے جہاں بڑی بڑی عقلیں کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے کے بجائے فریب فکر کا شکار ہو کر پگڈنڈیوں میں بھٹک جاتی ہیں۔ اس کے برعکس، انبیاء نے وحی اور الہامی علم کے ذریعے انسان کو شاہراہ یقین پر لا کھڑا کیا، جو اسے مادی اعداد و شمار کی قید سے نکال کر کائناتی سچائیوں کا مشاہدہ کرواتا ہے۔ جدید سائنس اور فلسفہ اکثر وجود باری تعالیٰ اور زندگی کے بعد کے حقائق کے بارے میں حتمی جواب دینے سے قاصر رہے ہیں۔ انبیاء نے ان سائنسی اور فلسفیانہ تصورات ابہام کا مقابلہ الہامی کتابوں کے ذریعے کیا، جو انسانی عقل کو محض ظاہری حواس کے حصار سے نکال کر غیب کی حقیقتوں پر ایمان لانے کا شعور عطا کرتی ہیں۔ فلسفیانہ نظریات بسا اوقات انسان کو نسلی تفوق یا مادی غلامی میں جکڑ دیتے ہیں۔ انبیاء نے ان تمام خود ساختہ نظریات اور توہمات کو باطل قرار دیا اور انسانی عقل کو وہ آزادی بخشی جو اسے کسی بھی قسم کے فکری جبر یا استبداد کے سامنے جھکنے سے روکتی ہے۔ ذرائع یہ واضح کرتے ہیں کہ انبیاء نے انسان کو وہ حقیقی علم عطا کیا جو کسی مدرسے یا فلسفیانہ مکتب فکر کی پیداوار نہیں تھا، بلکہ براہ راست پروردگار کی جانب سے تھا۔ اسی علم کی بدولت انہوں نے فلسفیوں کی بنائی ہوئی ذہنی کوٹھڑیوں کی دیواریں گرا دیں۔
خلاصہ یہ کہ انبیاء نے فلسفیانہ الجھنوں کا مقابلہ عقل کو اس کی حد بتانے اور اسے خالق کے تابع کرنے کے ذریعے کیا۔ انہوں نے انسان کو بتایا کہ عقل جب تک الہامی ہدایت کی روشنی میں نہ چلے، وہ فریب فکر کے اندھیروں میں بھٹکتی رہے گی۔ اسے ایک استعارے سے یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ فلسفیانہ الجھنیں ایک ایسے مکڑی کے جالے کی مانند ہیں جس میں عقل جتنا سلجھنے کی کوشش کرتی ہے، اتنا ہی الجھتی چلی جاتی ہے؛ انبیاء کی دعوت اس جالے کو کاٹنے والی وہ روشنی ہے جو مسافر کو فکری پیچیدگیوں سے نکال کر منزل کا صاف راستہ دکھا دیتی ہے۔

جدید سائنسی نظریات بھی انسانی ذہن کے لیے فریب فکر بن سکتے ہیں۔ اگرچہ سائنس مادی ترقی کا ذریعہ ہے، لیکن جب اسے ہی حتمی سچائی مان لیا جائے تو یہ کئی فکری الجھنوں کا باعث بنتی ہے۔ ذرائع کی روشنی میں اس کی چند اہم وجوہات یہ ہیں کہ ماضی کے بہت سے سائنسی حقائق آج کے انسان کے لیے محض پرانے افسانے بن چکے ہیں۔ بہت سے جدید سائنسی تصورات بھی ابہام کا شکار ہیں اور کئی سائنسی نتائج کا انجام دوبارہ آغاز تحقیق پر ہو رہا ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ سائنسی علم ہمیشہ حتمی نہیں ہوتا۔ جدید سائنسدان اپنی تمام تر ذہانت کے باوجود اکثر زندگی کے بنیادی اور حقیقی سوالات کا جواب دینے سے قاصر رہے ہیں۔ جب عقل محض مادی اعداد و شمار میں الجھ جاتی ہے، تو وہ غیر مادی اور کائناتی سچائیوں کا انکار کر کے فکری خودستائی کا شکار ہو جاتی ہے۔ نظریۂ اضافیت اور کوانٹم فزکس جیسے جدید علوم، جہاں ایک طرف ترقی کا نشان ہیں، وہیں دوسری طرف انسانی ذہن کو مسلسل ابہام اور بے یقینی کی کیفیت میں بھی ڈال دیتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، آئن سٹائن جیسے مفکرین بھی کائنات کے مادی تانے بانے میں اس طرح الجھ گئے کہ وجود اور تخلیق کے بنیادی اصولوں کو فراموش کر بیٹھے، جسے فریب فکر سے تعبیر کیا گیا ہے۔ جدید دور کی سائنسی ایجادات، جیسے کمپیوٹرز، مریخ و زحل کی تسخیر اور جینیاتی خواب، بظاہر بہت دلکش معلوم ہوتے ہیں، لیکن ذرائع انہیں سراب چشم قرار دیتے ہیں، کیونکہ یہ انسان کو مادی ترقی کے سحر میں جکڑ کر اسے اس کے اصل روحانی مرکز سے دور کر سکتے ہیں۔ سائنسی ذہن اکثر صرف ان چیزوں پر یقین رکھتا ہے جو مشاہدے یا بصری شہادت میں آئیں، اور اس طرح وہ غیر مادی حقائق کا انکار کر کے اپنی عقل کو ایک محدود دائرے میں قید کر لیتا ہے، جو فکری آزادی کے بجائے ایک نئی قسم کی غلامی ہے۔
جدید سائنسی نظریات اس وقت فریب فکر بن جاتے ہیں جب وہ انسان کو شاہراہ یقین سے ہٹا کر محض نظریات کی پگڈنڈیوں پر ڈال دیتے ہیں اور اسے کائنات کے خالق کی پہچان کے بجائے صرف مادی گتھیوں میں الجھا کر رکھ دیتے ہیں۔ اس صورتحال کو ایک استعارے سے یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ جدید سائنسی علم ایک ایسے تیز رفتار جہاز کی مانند ہے جو مسافر کو کائنات کی وسعتوں میں تو لے جاتا ہے، لیکن اگر اس کے پاس سمت بتانے والا الہامی قطب نما نہ ہو، تو وہ مسافر کو لامتناہی خلا میں بھٹکا کر منزل سے دور کر دیتا ہے۔