The Essence of Muqaddamat-ul-Quran: A Critique of Modernity and the Call to Truth
![]() |
| مقدمۃ القرآن |
انسانی تاریخ کبھی بھی مقدس نفوس (انبیاء) سے خالی نہیں رہی، جنہیں پروردگار نے حقیقی علم سے روشناس کرایا تاکہ وہ انسانوں کو خالق کے بتائے ہوئے صراط مستقیم پر چلا سکیں۔ ان کا مقصد انسانی فکر کو دنیاوی ترجیحات کے بجائے خدائی فکر اور ذکر سے جوڑنا تھا۔ شریعت اور انبیاء کی دعوت کا اصل مقصد ایک ایسے خدائی نظام کا قیام ہے جو عدل و انصاف، معاشی تحفظ اور اعلی اخلاقی اوصاف پر مبنی ہو۔ یہ نظام معاشرے کو ایک محفوظ چار دیواری فراہم کرتا ہے جہاں انسانی جان، مال اور عزت کا تحفظ یقینی ہو۔
انبیاء نے انسانوں کو سماجی جبر، استبداد اور قبائلی تعصبات کی قید سے آزاد کرایا۔ انہوں نے انسانی ذہن کو توہمات اور خود ساختہ نظریات سے نکال کر کائناتی سچائیوں سے روشناس کرایا تاکہ وہ کسی بھی قسم کی ذہنی یا فکری غلامی کا شکار نہ ہوں۔ تمام الہامی دعوتوں کا ایک بنیادی مقصد انسان کو اس کے خالق کی پہچان کروانا اور اسے اپنی زندگی کے اصل مقصد یعنی بندگی سے آگاہ کرنا ہے۔ یہ علم انسان کو بتاتا ہے کہ اس کی تخلیق محض اتفاقیہ نہیں بلکہ ایک خاص مقصد کے تحت ہے۔ انبیاء کی دعوت کسی خاص گروہ یا قبیلے کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے ہے۔ یہ پیغام انسان کو مایوسی اور بے یقینی کے بادلوں سے نکال کر ایک درخشاں مستقبل کی نوید دیتا ہے۔ الہامی علم کا ایک اہم مقصد انسان کا تزکیہ کرنا ہے تاکہ وہ حیوانی جبلتوں سے بلند ہو کر اعلی انسانی رتبہ حاصل کر سکے۔ یہ علم انسان کو اپنی صلاحیتوں کو درست سمت میں استعمال کرنے کا ہنر سکھاتا ہے۔انبیاء کی دعوت دراصل انسانیت کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لانے کی ایک ایسی کوشش ہے جو انسان کو اس کے اصل مقام سے آگاہ کرتی ہے۔
اسے ایک استعارے سے یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ الہامی علم ایک ایسے روشن چراغ کی مانند ہے جو زندگی کے تاریک اور دشوار گزار راستوں میں نہ صرف منزل کا پتا دیتا ہے، بلکہ مسافر کو ٹھوکروں سے بچا کر سلامتی کے ساتھ اس کے اصل گھر تک پہنچا دیتا ہے۔
انبیاء نے انسانوں کو سماجی جبر، استبداد اور قبائلی تعصبات کی قید سے آزاد کرایا۔ انہوں نے انسانی ذہن کو ان خود ساختہ نظریات اور نسلی تفوق کے بتوں سے نکالا جو انسانیت کی تقسیم کا باعث بنتے تھے۔ انسانی ذہن صدیوں سے فلسفیانہ تانے بانے اور فکری دھوکے (فریب فکر) کا شکار رہا ہے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ بڑے بڑے فلاسفہ اور دانشوروں نے انسانیت کو بنیادی ترجیحات سے ہٹا کر لایعنی فلسفوں میں الجھائے رکھا۔ انبیاء نے انسانی عقل کو ان "مکڑی کے جالوں" جیسی فکری پیچیدگیوں سے نکال کر خالق کی پہچان کے سیدھے راستے پر ڈالا۔ انبیاء نے انسانوں کو ملا ئیت، پاپائیت، اور پیری فقیری کے نام پر ہونے والے استحصال سے نجات دلائی۔ انہوں نے انسانی ذہن کو جادو، تعویذ، باطل وظائف اور خرافات کی غلامی سے آزاد کر کے عقل اور مشاہدے کی دعوت دی۔ جدید دور میں انسان لا دینیت اور محض مادی اعداد و شمار کی فکری غلامی میں جکڑا ہوا ہے۔ انبیاء کی تعلیمات نے انسان کو بتایا کہ کائنات محض ایک مادی حادثہ نہیں بلکہ اس کا ایک حکیم و علیم خالق ہے، یوں انہوں نے انسانی ذہن کو مادہ پرستی کی محدود سوچ سے نکال کر کائناتی سچائیوں تک رسائی دی۔انبیاء نے انسانی عقل کو قدیم جاہلانہ رسم و رواج اور آباؤ اجداد کی اندھی تقلید کی زنجیروں سے نکالا۔ انہوں نے انسان کو یہ شعور دیا کہ وہ اپنی عقل اور بصیرت کو استعمال کرے نہ کہ صدیوں پرانے فرسودہ نظریات کا غلام بنا رہے۔
اس فکری آزادی کو ایک استعارے سے یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ انسانی ذہن ایک ایسے قیدی کی مانند تھا جو اپنی ہی بنے ہوئے خیالات کی اندھیری کوٹھڑی میں بند تھا؛ انبیاء کی دعوت نے اس کوٹھڑی کی دیواریں گرا دیں اور اسے توہمات کے اندھیرے سے نکال کر یقین کی کھلی اور روشن فضا میں لا کھڑا کیا۔
انبیاء کرام نے انسانی تاریخ میں فلسفیانہ الجھنوں اور فریب فکر کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک واضح اور غیر مبہم راستہ اختیار کیا۔ ذرائع کے مطابق سقراط سے لے کر رسل تک، فلسفیوں اور دانشوروں نے اکثر انسانی ذہن کو ثانوی اور فکری تانے بانوں میں الجھا کر بنیادی ترجیحات سے منحرف کر دیا تھا۔ انبیاء نے ان فلسفیانہ الجھنوں کا مقابلہ کرتے ہوئے انسان کو دوبارہ اس کے اصل مقصد یعنی خالق کی پہچان اور بندگی کی طرف بلایا اور اسے ذہنی آوارگی سے بچایا۔ فلسفہ اکثر تشکیک اور ابہام پیدا کرتا ہے جہاں بڑی بڑی عقلیں کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے کے بجائے فریب فکر کا شکار ہو کر پگڈنڈیوں میں بھٹک جاتی ہیں۔ اس کے برعکس، انبیاء نے وحی اور الہامی علم کے ذریعے انسان کو شاہراہ یقین پر لا کھڑا کیا، جو اسے مادی اعداد و شمار کی قید سے نکال کر کائناتی سچائیوں کا مشاہدہ کرواتا ہے۔ جدید سائنس اور فلسفہ اکثر وجود باری تعالیٰ اور زندگی کے بعد کے حقائق کے بارے میں حتمی جواب دینے سے قاصر رہے ہیں۔ انبیاء نے ان سائنسی اور فلسفیانہ تصورات ابہام کا مقابلہ الہامی کتابوں کے ذریعے کیا، جو انسانی عقل کو محض ظاہری حواس کے حصار سے نکال کر غیب کی حقیقتوں پر ایمان لانے کا شعور عطا کرتی ہیں۔ فلسفیانہ نظریات بسا اوقات انسان کو نسلی تفوق یا مادی غلامی میں جکڑ دیتے ہیں۔ انبیاء نے ان تمام خود ساختہ نظریات اور توہمات کو باطل قرار دیا اور انسانی عقل کو وہ آزادی بخشی جو اسے کسی بھی قسم کے فکری جبر یا استبداد کے سامنے جھکنے سے روکتی ہے۔ ذرائع یہ واضح کرتے ہیں کہ انبیاء نے انسان کو وہ حقیقی علم عطا کیا جو کسی مدرسے یا فلسفیانہ مکتب فکر کی پیداوار نہیں تھا، بلکہ براہ راست پروردگار کی جانب سے تھا۔ اسی علم کی بدولت انہوں نے فلسفیوں کی بنائی ہوئی ذہنی کوٹھڑیوں کی دیواریں گرا دیں۔

