The Concept of Shawq (Divine Longing) in the Sufi Philosophy of Dhu al-Nun al-Misri

 ذوالنون مصری کے نزدیک "شوق" کا مقام 

ذوالنون مصری کے نزدیک "شوق" کو بلند ترین روحانی مقام اس لیے مانا جاتا ہے کیونکہ یہ وہ آخری حد ہے جہاں روح اپنے خالق سے ملنے کے لیے تمام دنیاوی اور جسمانی رکاوٹوں سے بے نیاز ہو جاتی ہے۔ اس کی اہمیت کی چند بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں:


۱۔ وصالِ الہی کی تڑپ اور موت کا انتظار: شوق تمام درجات اور مقامات میں سب سے بلند ہے۔ جب کوئی سالک اس مقام پر پہنچتا ہے تو وہ اپنے رب سے ملاقات اور اس کے دیدار کی تڑپ میں موت کو بھی "دیر سے آنے والا" سمجھتا ہے؛ یعنی اسے موت کا خوف نہیں رہتا بلکہ وہ اسے محبوب سے وصال کا واحد ذریعہ سمجھ کر اس کا منتظر رہتا ہے۔

۲۔ ولایت کا درجہ: ذرائع میں "شوق" کے دروازے کو "درجۂ ولایت" (درجة الولاية) قرار دیا گیا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اللہ اپنے بندے کے دل میں اپنے نور کا ایک خاص راز ڈال دیتا ہے۔

۳۔ محبت اور انس کا منطقی نتیجہ: جب ایک مومن اللہ کی قربت میں "انس" (سکون اور راحت) پانے لگتا ہے، تو یہ انس اس کے اندر ایک بے چینی اور تڑپ پیدا کرتا ہے جسے شوق کہتے ہیں۔ یہ شوق ہی اسے اللہ کی حضوری اور اس کے مشاہدے تک لے جاتا ہے۔

۴۔ روحانی بصیرت کا آخری دروازہ: ذوالنون مصری کے مطابق روحانی بصیرت اور حکمت کے چار اہم دروازے ہیں: خوف، رجا (امید)، محبت اور شوق۔ ان میں شوق آخری اور اعلیٰ ترین دروازہ ہے جو براہِ راست اللہ کی معرفت اور دیدار سے جڑا ہوا ہے۔

تمثیل: اسے یوں سمجھا جا سکتا ہے جیسے کوئی مسافر ایک طویل اور کٹھن سفر طے کر کے اپنے گھر کے دروازے تک پہنچ جائے؛ اب وہ نہ تو راستے کی تھکن محسوس کرتا ہے اور نہ ہی گرد و پیش کے مناظر میں دلچسپی رکھتا ہے، بلکہ اس کی تڑپ صرف اس دروازے کے کھلنے اور اپنے پیاروں کے دیدار میں ہوتی ہے۔ "شوق" بھی روحانی سفر کا وہ آخری دروازہ ہے جس کے کھلنے کا ایک عارف بے صبری سے انتظار کرتا ہے۔

Comments