The Concept of the Heart (Qalb) in Sufi Metaphysics: Insights from Dhu al-Nun al-Misri
ذوالنون مصری کے روحانی نظام میں دل (قلب) محض ایک انسانی عضو نہیں بلکہ روحانی ادراک اور مشاہدۂ حق کا مرکزی محور ہے۔ مقاماتِ تصوف کو طے کرنے اور الہی اسرار کو سمجھنے میں دل کے کردار کو درج ذیل نکات سے واضح کیا جا سکتا ہے:
۱۔ معرفتِ الہی کا واحد ذریعہ: ذوالنون مصری کے نزدیک معرفت کا اعلیٰ ترین درجہ وہ ہے جہاں اولیاء اللہ اپنے دلوں کے ذریعے اللہ کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ حقیقی توحید اور معرفت کا حصول ان مخصوص لوگوں کے لیے ہے جو اللہ کو اس کے دل کی آنکھ سے دیکھتے ہیں۔
۲۔ باطنی بصیرت (آنکھیں): ذرائع کے مطابق اللہ نے اپنے برگزیدہ بندوں کو ایسی خصوصیات عطا کی ہیں کہ وہ "دلوں کی آنکھوں" (أعين القلوب) سے غیب کے اسرار اور ملکوتِ سماوات کا مشاہدہ کرتے ہیں۔
۳۔ نورِ شوق کا مسکن: جب کوئی سالک "شوق" کے مقام پر پہنچتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے دل میں اپنے نور کا ایک خاص راز (نورِ اشتیاق) ڈال دیتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں دل غیر اللہ سے پاک ہو کر مکمل طور پر محبوب کے رنگ میں رنگ جاتا ہے۔
۴۔ ذکرِ قلبی کی اہمیت: ذوالنون مصری کے نزدیک معرفت اور توکل کا حصول اس وقت تک ممکن نہیں جب تک دل مسلسل اللہ کے ذکر اور مناجات میں مشغول نہ رہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ دل اور زبان کا مشترکہ ذکر ہی "شوق" کے بند دروازے کو کھولنے کی چابی ہے۔
۵۔ روحانی سکون اور انسیت: اللہ کے ساتھ "انس" (قربت) کا تعلق دل کی صفائی اور اللہ کے ساتھ دلی یکسوئی سے پیدا ہوتا ہے۔ جب دل دنیاوی تعلقات سے کٹ جاتا ہے، تبھی وہ الہی مٹھاس اور قربت محسوس کر پاتا ہے۔
۶۔ اعمال کی قبولیت کا معیار: ان کے نزدیک جسمانی اعضاء کے اعمال کی حیثیت تبھی ہے جب دل ان کی تصدیق کرے۔ دل کا خلوص ہی مرید کے روحانی سفر کو نفاق سے بچاتا ہے اور اسے سچا سالک بناتا ہے۔
تمثیل: اسے یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ سالک کا دل ایک آئینے کی طرح ہے؛ جب تک اس پر دنیاوی خواہشات اور غفلت کا زنگ رہتا ہے، یہ الہی تجلیات کو منعکس نہیں کر سکتا۔ لیکن جب ذکر اور تزکیہ کے ذریعے اس آئینے کو صاف کر دیا جاتا ہے، تو یہی دل کائنات کے وہ چھپے ہوئے راز اور الہی مقامات دکھاتا ہے جو ظاہری آنکھوں سے اوجھل ہوتے ہیں۔


Comments
Post a Comment