The Four Gates of Spiritual Insight and Wisdom (Hikmah) in the Sufism of Dhu al-Nun al-Misri

 ذوالنون مصری کے مطابق روحانی بصیرت اور حکمت (فطنت) کے چار اہم دروازے ہیں، جن میں سے ہر ایک کی اپنی مخصوص چابی ہے اور یہ سالک کو بتدریج شوق کی بلند ترین منزل تک لے جاتے ہیں۔ ان دروازوں کا شوق سے تعلق درج ذیل ترتیب سے ہے:


۱۔ خوف کا دروازہ: روحانی بصیرت کا پہلا مرحلہ خوف ہے، جس کی چابی اللہ کے فرائض کی ادائیگی ہے۔ ۲۔ رجا (امید) کا دروازہ: دوسرا مرحلہ اللہ سے امید وابستہ کرنا ہے، جس کی چابی نوافل اور زائد عبادات میں مشغول ہونا ہے۔ ۳۔ محبت کا دروازہ: تیسرا مرحلہ محبتِ الہی ہے، جس کی چابی عبادت سے دلی لگاؤ اور اس میں لذت پانا ہے۔ ۴۔ شوق کا دروازہ: یہ چوتھا اور اعلیٰ ترین دروازہ ہے، جس کی چابی دل اور زبان سے اللہ کا مسلسل ذکر کرنا ہے۔

شوق اور ان چار دروازوں کا باہمی تعلق

ولایت کا مقام: شوق کے دروازے کو ذوالنون مصری نے "درجۂ ولایت" قرار دیا ہے، جو کہ روحانی بصیرت کی انتہا ہے۔

نورِ الہی کا نزول: جب کوئی بندہ ذکرِ الہی کے ذریعے شوق کے اس دروازے کو کھولتا ہے، تو اللہ اس کے دل میں اپنے نور کا وہ راز (شوق) ڈال دیتا ہے جو اسے براہِ راست مشاہدۂ حق تک لے جاتا ہے۔

ارتقاء کی تکمیل: شوق ان تمام دروازوں کا حاصل ہے؛ خوف اور رجا سالک کو تیار کرتے ہیں، محبت اسے قربت بخشتی ہے، اور شوق اسے وصالِ الہی کے اس مقام پر پہنچا دیتا ہے جہاں وہ اپنے رب سے ملاقات کے لیے موت کو بھی خوشی سے گلے لگانے کو تیار ہوتا ہے۔

تمثیل: اسے یوں سمجھا جا سکتا ہے جیسے ایک محل کے چار کمرے ہوں؛ پہلے تین کمرے (خوف، رجا، محبت) مسافر کو شاہی دربار کے قریب لاتے ہیں، لیکن چوتھا دروازہ (شوق) وہ ہے جو کھلتے ہی مسافر کو براہِ راست بادشاہ کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے، جہاں پہنچ کر مسافر کی تڑپ اپنے عروج پر ہوتی ہے۔

Comments