Tazkiyah: Purifying the Heart from Worldly Noise in Islamic Philosophy
ذوالنون مصری کے روحانی نظام میں دل (قلب) دنیاوی شور اور الہی اسرار کے درمیان فرق کرنے کے لیے ایک چھلنی اور آئینے کا کردار ادا کرتا ہے۔ یہ تمیز درج ذیل روحانی طریقہ کار کے ذریعے ممکن ہوتی ہے:
۱۔ تزکیہ اور قطعِ علائق (دنیاوی تعلقات کو ختم کرنا): دل اس وقت تک الہی اسرار کو نہیں پا سکتا جب تک وہ دنیاوی شور یعنی "لہو و لعب" اور مادی خواہشات میں گھرا ہوا ہو۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ جب بندہ "قطع العلائق" (دنیاوی بندھنوں کو کاٹنا) کرتا ہے اور غیر اللہ سے ناطہ توڑ لیتا ہے، تبھی وہ الہی مٹھاس اور اسرار کو محسوس کرنے کے قابل ہوتا ہے۔
۲۔ ذکر بطورِ فلٹر (Filter): دنیاوی شور سے بچنے کے لیے "ذکر" سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ ذوالنون مصری کے مطابق، مسلسل ذکر وہ چابی ہے جو "شوق کا دروازہ" کھولتی ہے۔ جب دل ذکرِ الہی سے معمور ہو جاتا ہے، تو وہ دنیا کی عارضی آوازوں اور فریب کو پہچان لیتا ہے اور اسے رد کر کے "سرِ ملکوت" (باطنی اسرار) پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔
۳۔ بصیرتِ قلبی (دل کی آنکھیں): ذرائع کے مطابق، اللہ اپنے برگزیدہ بندوں کو "دلوں کی آنکھیں" (أعين القلوب) عطا فرماتا ہے۔ یہ بصیرت عارف کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ کائنات کے ظاہری ہنگاموں کے پیچھے چھپے ہوئے الہی رازوں اور اللہ کی صفات کا مشاہدہ کر سکے۔
۴۔ خلوت اور انسیت: جب دل دنیاوی شور سے دور ہو کر خلوت (تنہائی) میں اللہ سے انس پانے لگتا ہے، تو اسے دنیا کی باتیں "وحشت" محسوس ہونے لگتی ہیں اور اللہ کا ذکر "سکون" بن جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں دل الہی اسرار اور دنیاوی فریب کے درمیان واضح فرق کر لیتا ہے۔
۵۔ سچی توبہ کا اثر: توبہ وہ پہلا مقام ہے جو دل سے دنیاوی غفلت کا زنگ اتار دیتا ہے۔ توبہ کے بعد ہی دل اس قابل ہوتا ہے کہ وہ گناہ کے شور اور نیکی کی سرگوشی کے درمیان تمیز کر سکے۔
تمثیل: اسے یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ دل ایک ریڈیو کی طرح ہے؛ جب تک اس کی فریکوئنسی دنیاوی خواہشات (شور) پر سیٹ رہتی ہے، اسے الہی پیغام سنائی نہیں دیتا۔ لیکن جب "ذکر" کے ذریعے اس کا رخ بدلا جاتا ہے اور "تزکیہ" کے ذریعے اس کے سگنل صاف کیے جاتے ہیں، تو وہ کائنات کے ان خفیہ اسرار کو پکڑ لیتا ہے جنہیں عام کان سننے سے قاصر ہوتے ہیں۔


Comments
Post a Comment