Opening the Fourth Gate: Spiritual Veils and the Station of Wilayah

 ذوالنون مصری کے ارشادات کے مطابق، جب چوتھا دروازہ (شوق کا دروازہ) مسلسل ذکر کے ذریعے کھولا جاتا ہے، تو سالک پر درج ذیل مخصوص روحانی کیفیات اور مشاہدات طاری ہوتے ہیں:


۱۔ نورِ اشتیاق کا نزول: جب بندے کا دل اور زبان اللہ کے ذکر میں پوری طرح مشغول ہو جاتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ اس کے دل میں اپنے نور کا ایک خاص راز ڈال دیتا ہے جسے "نورِ اشتیاق" (نور الاشتياق) کہا جاتا ہے۔

۲۔ سرِ ملکوت کا انکشاف: اس دروازے کے کھلنے کو "سرِ ملکوت" (ملکوت کا راز) قرار دیا گیا ہے۔ یہ وہ باطنی حکمت ہے جو اللہ اپنے برگزیدہ بندوں کو عطا فرماتا ہے۔

۳۔ ناقابلِ بیان مشاہدات: ذرائع کے مطابق، جب سالک اس دروازے سے داخل ہوتا ہے تو وہ ایسے عظیم روحانی مشاہدات کرتا ہے جن کے بارے میں ذوالنون مصری فرماتے ہیں کہ "میرا نہیں خیال کہ تم ان مشاہدات کو برداشت کرنے کی طاقت رکھتے ہو جو وہاں نظر آتا ہے"۔

۴۔ درجۂ ولایت پر فائز ہونا: چوتھے دروازے کا کھلنا دراصل "درجۂ ولایت" (درجة الولاية) تک رسائی ہے، جہاں بندہ اللہ کی معرفت کے اس مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں اسے اللہ کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔

۵۔ موت سے انسیت: اس مقام پر پہنچنے کے بعد، سالک کے لیے موت کا خوف ختم ہو جاتا ہے اور وہ اپنے رب سے ملاقات کے شوق میں موت کو ایک محبوب وصال کی طرح دیکھتا ہے۔

خلاصہ: چوتھے دروازے کا کھلنا سالک کو عام انسانی ادراک سے بلند کر کے براہِ راست مشاہدۂ حق اور باطنی نور کی اس منزل پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں اللہ خود اسے معرفت کے راز سونپتا ہے۔

Comments