Don't Confuse: Religion is a way, Destination if Allah
لکھنے والے بہت ہیں۔ ہر روز قلم دوات اٹھا کر کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ رہتے ہیں۔ پھر جو بھی ذہن میں ہو لکھ دیتے ہیں۔ شیخ عبدالقادرجیلانی سے کسی نے (سر الاسرار) سوال کیا؛ شیخ خواطر حق کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ (خواطر سے مراد وہ الہام جو انسان پر ہوتے ہیں، یہ الہام شیطانی بھی ہو سکتے ہیں، خدائی بھی اور دنیاوی بھی)۔
شیخ نے جواب دیا: تم نے اپنے نفس کو چھوڑا ہی کب تھا کہ خواطر حق کی بات کرو۔ خواطر حق صرف اس کے لیے ہے جس کا دل اللہ کے علاوہ ہر چیز سے پاک ہو جائے۔ یعنی الہام خیر کے لیے یہ شرط لازم ہے کہ انسان یقین کی منزل پر ہو۔ اگر وہ شک کے سفر میں مبتلا ہے تو اس پر ویسے ہی خواطر کا ظہور ہو گا۔
شک مزے دار ہے۔ اس کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ پختہ یقین والے بھی شک کو انجوائے کرتے ہیں۔ ڈیوڈ ہیوم نے مذاہب پر تبصرہ کیا تو اس نے بہترین شکوک فراہم کیے اور مذہب (عیسائیت) پر کڑی تنقید کی مگر دلائل کے ساتھ۔ ہیوم متشکک فلاسفر ہے۔ وہ شک سے کڑی کھولتا ہے ۔ یوں نے پچیس سال کی عمر میں اپنی پہلی کتاب مرتب کی جس میں شک کو بنیادی اہمیت حاصل تھی۔
سوچنے والا ذہن سو چ سکتا ہے کہ ۲۵ سال کی عمر میں بھلا عقل پختہ تو نہیں ہوتی کہ فیصلہ کرے اور دلیل دے۔ یہ عمر سفر کے آغاز کی ہے، جس میں انسان سوچنا سمجھنا شروع کرتا ہے اور طویل مدت کے بعد کسی نتیجے پر پہنچتا ہے۔ یوں بھی مشرق میں ایک خیال رائج ہے کہ پختہ عمر چالیس سال کے بعد شروع ہوتی ہے جس میں انسانی ذہن ، اپنے علم کو بنیاد بنا کر، رائے دینے کے قابل ہوجاتا ہے۔ مگر ہیوم نے جس عمر میں مذہب پر اعتراضات کیے، اُس کے متعلق ہم اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ اُس نے عجلت سے کام لیا۔
ایک غلطی جو ہیوم سے سرزد ہوئی اور یہ غلطی بہت سے فلاسفہ نے دھرائی ہے کہ وہ مذہب کو ہی منزل سمجھتے ہیں۔ یہی غلطی عام عوام میں بھی رائج رہی ہے۔ یہی غلطی علماء، پادری حضرات اور اہل یہود میں بھی پائی جاتی ہے۔ مگر بات کچھ اور ہے۔ جب تاریخ خدا وند کو دیکھا جائے، اور متواتر پیغمبروں کا زمین پر تبلیغ کرنا، لوگوں کو راہ راست کی طرف بلانے کا سفر دیکھا جائے تو ایک بات سمجھ میں آتی ہے کہ خدا یہ سب کچھ مذاہب تخلیق کرنے کے لیے نہیں کر رہا تھا (جیسا کہ اُس نے قرآن میں واضح کر دیا)۔
مذہب یقینا ہماری منزل نہیں ہے۔ مذہب وہ راستہ ہے جس پر چل کر کوئی بھی شخص خدا تک پہنچ سکتا ہے۔ خدا منزل ہے۔ خدا نے مذاہب تخلیق نہیں کیے، جیسے عیسائیت اور یہودیت کے پاس کوئی سند موجود نہیں۔ پیغمبر تو بہت آئے مگر کیا کسی پیغمبر نے انہیں یہودی و عیسائی نام دیا۔ ہرگز نہیں۔ اللہ کہتا ہے؛ ان لوگوں نے اپنی شناخت جدا کر لی اور گروہ بنا لیے۔ یعنی خدا نے گروہ بندی نہیں کی تھی۔ خدا نے تمام انسانیت کو ایک ہی طرح سے سمیٹا تھا۔ اُس نے تمام لوگوں کی طرف ہدایت بھیجی اور وہ ہدایت کیا تھی: اللہ کو ایک جانو اور اُسی کی عبادت کرو۔
جب بھی قوم یا افراد اپنا الگ تشخص بنا لیتے ، خدا کسی راہبر کو بھیج کر ان کی اصلاح کرتا ۔ تمام پیغمبرانہ تعلیمات ایک جیسی رہیں۔ یہ انتہائی سائنٹفک بات ہے کہ تمام اذہان نے ایک ہی میسج دیا اور بعد از تجربات زندگی، ایک ہی نتیجہ اخذ کیا۔
حیرت ہے: پیغمبر وں کی تعلیمات یکساں ہیں، مگر مذاہب کی تعلیمات مختلف ہیں۔ ہر مذہب دوسرے پر گرفت کرتا ہے ۔ یہودیت سے عیسائیت کا سفر صرف ایک پیغمبر سے شروع ہوتا ہے۔ جناب عیسی سے۔ اور جناب عیسی نے اہل یہود کو راہ راست دکھانا چاہا۔ انہوں نے اہل یہود کی تربیت شروع کی تو یہود ان کے مخالف ہو گئے۔ ویسے بھی یہ قوم پیغمبروں کے قتل کو اپنا شعار بنا چکی تھی اور اللہ کی واضح نشانیوں سے انکار کرتی تھی مگر ساتھ ہی ساتھ خدا سے تعلق اور خدا کی بہترین قوم ہونے کا دعویِ بھی انہی کے سر تھا۔ تب کے اہل یہود، آج کے سیکولر سے مختلف نہ تھے۔ جناب عیسی نے جب یہود کو خدا کا پیغام دیا تو وہ ان کے قتل پر مصر ہو گئے اور بعد از قتل، عیسی کے ہواری ایک نئے مذہب کے ساتھ ظاہر ہوئے۔ کتاب دی گئی، مگر کتاب میں احکام وہی تھے، لیکن جہاں جہاں یہود نے تحریف کی تھی، اس کی تصحیح فرمائی گئی تھی۔ لیکن نتیجہ کیا نکلا۔۔۔جناب عیسی کو مصلوب ہونا پڑا اور ان کے ہواری اس صدمے میں ایک نیا مذہب تخلیق کر چکے تھے۔ جس کی فصلیں اتنی بلند اور غیر عقلی تھیں کہ خود خدا کو انہیں چیلنج کرنا پڑا۔ یوں اسلام کی طرف سفر شروع ہوا۔ مگر اسلام آخری مذہب نہیں تھا ۔
اللہ نے جب قرآن کریم میں، ایک پیغمبر حضرت ابراہیم کا ذکر کیا تو کہا:
ابراہیم نہ یہودی تھے نہ عیسائی، وہ تو مسلمان تھے۔
پھر جناب موسی کا ذکر کیا، جناب یعقوب کا ذکر کیا اور کہا وہ مسلمان تھے۔
حضرت عیسی کا ذکر سورۃ آل عمران میں کیا:
"جب عیسی نے کہا اپنے ہواریوں سے؛ تم میں سے کون کون میرا ساتھ دے گا، تو کچھ لوگوں نے اپنے ہاتھ اٹھا کر کہا؛ ہم ساتھ ہیں۔ اللہ نے کہا: اے عیسی جنہوں نے تیری حمایت میں ہاتھ اٹھا دیے، یہ مسلمان ہیں"۔
مذہب ایک ہی تھا اور ہے او ر وہ اسلام ہے۔ شروع سے آخر تک، پیغمبر اسی کی طرف لوگوں کو بلاتے ہیں اور یہ بھی کوئی فصیلوں والا مذہب نہ تھا۔ بلکہ اسکا مقصد اور منزل اللہ تھا اور ہے۔ اسلام مقصود نہیں ہے، خدا مقصود ہے۔ اسلام آفاقی مذہب تھا اور ہے۔ مگر مسلمانوں نے اسے بھی پازند بنا دیا اور اب کے مسلمان مذہب کو ہی منزل سمجھ بھیجیے۔ شرع کی تعریف یوں ہے: کم سے کم زاد راہ جو آپ کو منزل تک لے جائے۔ شریعت زاد سفر ہے۔ مذہب راستہ ہے۔ کیا ہم سفر اور راستے میں ہی الجھے رہیں گے ؟؟؟؟
خدا تو بہت آگے ہے۔ اور خدا ہی منزل ہے۔ اسلام کوئی چرچ تو نہیں جو خدا سے تعلق کو محدود کر دے۔ اللہ ہر ایک کو اپنی دوستی میں لیتا ہے ، ہر روز اس کی نئی شان ہے اور ہر دن وہ کام پر لگا رہتا ہے۔
فلسفہ مذہب پڑھتے ہوئے آپ ایک گروہ سے ملیں گے جنہیں ڈی اِسٹ کہا جاتا ہے۔ یہ حضرات کہتے ہیں: خدا کائنات بنا کر فارغ بیٹھ گیا، اب عقل کی مدد سے ہم کھوج لگاتے ہیں اور کائنات اپنی مرضی کے تحت چل رہی ہے۔ یعنی علت اور معلول کے درمیان کا سفر خود بخود طے ہو رہا ہے۔ مگر قرآن اس کا انکار کرتا ہے۔ اللہ ہر لمحہ انسان کی زندگی میں شامل دکھائی دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے میں تمہاری شہہ رگ سے بھی قریب ہوں اور پکار کو سنتا ہے جب تم پکارو۔ مشکل میں کون تمہاری مراد کو پورا کرتا ہے۔ اللہ ہی تو ہے۔ مگر تم اسے یاد بہت کم کرتے ہو۔
یاد کے طریقے اور قرینے بھی مذہبی لوگوں نے چُرا لیے اور ایسے ایسے بھونڈے طریقے رائج کیے کہ خدا کی پناہ۔ وگرنہ کوئی شخص خدا کی محبت اور دوستی سے نکل کر کہیں اور کیسے جا سکتا ہے۔

Comments
Post a Comment