Explanation: Secular, Agnostic and Atheist on Dhaeef Hadees


اعتراض:سیکولر حضرات یہ احادیث پیش کرتے ہیں اور انہیں صحیح بتاتے ہیں۔"سعودی مفتی اعظم البانی نے اپنی کتاب الغلیل الارواء میں یہ 'صحیح' روایت نقل کی ہے:
حدثنا وكيع قال : حدثنا شعبة عن قتادة عن أنس قال : " رأى عمر أمة لنا مقنعة فضربها وقال : لا تشبهين بالحرائر " . قلت : وهذا إسناد صحيح
ترجمہ:عمر ابن الخطاب نے ایک کنیز باندی کو چادر لیے دیکھا تو آپ نے اسکو مارا اور کہا کہ وہ آزاد مسلم عورتوں کی 'برابری' کی کوشش نہ کرے۔ امام البانی کہتے ہیں کہ اس روایت کی اسناد "صحیح" ہیں۔اور سعودی مفتی اعظم البانی اپنی کتاب ارواء الغلیل میں لکھتا ہے:
حدثنا على بن مسهر عن المختار بن فلفل عن أنس بن مالك قال: " دخلت على عمر بن الخطاب أمة قد كان يعرفها لبعض المهاجرين أو الأنصار , وعليها جلباب متقنعة به , فسألها: عتقت؟ قالت: لا: قال: فما بال الجلباب؟! ضعيه عن رأسك , إنما الجلباب على الحرائر من نساء المؤمنين , فتلكأت , فقام إليها بالدرة , فضرب بها رأسها حتى ألقته عن رأسها ".قلت: وهذا سند صحيح على شرط مسلم.
ترجمہ:
صحابی انس ابن مالک کہتے ہیں: کسی مہاجر یا انصار کی باندی عمر ابن خطاب کے پاس اس حالت میں آئی کہ اس نے جلباب پہنی ہوئی تھی (جلباب: وہ چادر جو سر کو ہی نہیں بلکہ ننگے سینوں کو بھی ڈھانپنے کے لیے استعمال ہوتی تھی)۔ عمر نے اس سے کہا: " کیا تمہیں آزاد کر دیا گیا ہے؟" اُس نے کہا:"نہیں۔" اس پر عمر نے کہا: "تو پھر اس جلباب کو سر سے اتار دو کیونکہ جلباب صرف آزاد مسلم عورت کے لیے ہے۔" باندی نے جلباب کو اتارنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا، تو اس پر عمر اٹھے اور انہوں نے اس باندی کو درے سے مارنا شروع کر دیااور اس کے سر پر ضرب لگائی حتیٰ کہ باندی نے جلباب اتار پھینکا۔

البانی کہتے ہیں کہ یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر 'صحیح' ہے۔اور تو اور کنیز باندیوں کے لیے نماز میں بھی حجاب نہ تھا۔ امام ابن حزم اپنی کتاب المحلیٰ میں نقل کرتے ہیں:لا يستحي من أن يطلق أن للمملوكة أن تصلي عريانة يرى الناس ثدييها وخاصرتها
امام ابو حنیفہ کو یہ کہنے میں کوئی تامل نہ تھا کہ کنیز باندی عریاں ہو کر نماز پڑھ سکتی ہے اور لوگ اسکی کھلی چھاتیوں اور پیٹھ کو دیکھ سکتے ہیں۔
اعتراض کا جواب:

اوپر بیان کردہ احادیث ضعیف ہیں۔

1- وكان عمر إذا رأى جارية متنقبة علاها بالدرة وقال ألقي عنك الخمار يا دفار تتشبهين بالحرائر الراوي: - المحدث: الزيلعي - المصدر: نصب الراية - الصفحة أو الرقم: 4/250
خلاصة الدرجة: غريب

2 - عن عمر رضي الله عنه أنه قال ألقي عنك الخمار يا دفار أتشبهين بالحرائر الراوي: - المحدث: الزيلعي - المصدر: نصب الراية - الصفحة أو الرقم: 1/300 خلاصة الدرجة: غريب
3 - ألقي عنك الخمار يا دفار أتتشبهين بالحرائر ؟ الراوي: عمر بن الخطاب المحدث: ابن حجر العسقلاني - المصدر: الدراية - الصفحة أو الرقم: 1/124
خلاصة الدرجة: لم أره بهذا اللفظ
4 - كان عمر إذا رأى جارية متقنعة علاها بالدرة ، وقال : ألق عنك الخمار ، يا دفار ، أتتشبهين بالحرائر الراوي: - المحدث: ابن حجر العسقلاني - المصدر: الدراية - الصفحة أو الرقم: 2/230 خلاصة الدرجة: لم أجده
يا اخوان ما معني (غريب ) هنا هل يعني ضعيف و ما معنا كلام ابن حجر (لم اره بهذا الفظ ) او (لم اجده )



سیکولر، کمیونسٹ حضرات سوشل میڈیا پر بار بار ایسی احادیث لگاتے ہیں۔ لہذا پہلے تحقیق کر لیجیے۔ نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ آخری زمانے میں، ضعیف احادیث بیان کرنے والوں کی کثرت ہو گی اور لوگ ایسی ایسی احادیث بیان کریں گے کہ سننے والے سوچے گا، یہ کہاں لکھی گئی۔

Comments