Imam Ibn Tamiyyah's Commentary on Shaykh Abdul Qadir Jilan's "Futuh-al-Gayb" (1)

 شیخ عبدالقادر جیلانی کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کی اصل حقیقت کیا ہے؟

شیخ عبدالقادر جیلانی کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کی اصل حقیقت قرآنی آیات اور احادیثِ نبویہ کے لفظی مفہوم پر ایمان لانے اور ان کی تکییف (کیسے ہے) اور تاویل (مطلب بدلنا) سے بچنے میں پنہاں ہے۔ ان کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی معرفت کا خلاصہ درج ذیل نکات پر مبنی ہے:ذاتِ الٰہی کی حقیقت شیخ عبدالقادر جیلانی کے مطابق اللہ تعالیٰ واحد، یکتا، صمد (بے نیاز) اور ابدی ہے۔ وہ نہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ اس سے کوئی پیدا ہوا، اور اس کا کوئی ہمسر نہیں ہے۔ ان کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی ذات کی اہم خصوصیات درج ذیل ہیں:جسمانیت سے پاک: وہ نہ تو کوئی ایسا جسم ہے جسے چھوا جا سکے، نہ ایسا جوہر ہے جسے محسوس کیا جا سکے، اور نہ ہی وہ مختلف حصوں یا اجزاء سے مل کر بنا ہے۔مقام اور موجودگی: اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے ساتھ عرش پر مستوی ہے۔ شیخ صاحب اس بات کی نفی کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود ہے، بلکہ ان کا موقف ہے کہ وہ آسمان میں عرش پر ہے، البتہ اس کا علم ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے اور وہ ہر چیز کا گواہ ہے۔صفاتِ باری تعالیٰ کی حقیقت شیخ عبدالقادر جیلانی صفاتِ الٰہی کو اسی طرح تسلیم کرنے پر زور دیتے ہیں جیسے وہ قرآن و سنت میں وارد ہوئی ہیں، بغیر کسی تشبیہ (مخلوق سے مشابہت) یا تعطیل (انکار) کے۔لازمی صفات: اللہ تعالیٰ زندگی کے ساتھ حی (زندہ) ہے، علم کے ساتھ علیم ہے، قدرت کے ساتھ قدیر ہے، ارادے کے ساتھ مرید ہے، اور سماعت و بصارت کے ساتھ سمیع و بصیر ہے۔خبری صفات (ہاتھ، چہرہ، آنکھ): شیخ صاحب ان صفات کو اللہ کی ذات کے لیے ثابت مانتے ہیں جیسے کہ اللہ کے دو ہاتھ ہیں (اور اس کے دونوں ہاتھ 'دائیں' ہیں)، اس کا چہرہ ہے، اس کی آنکھ ہے اور اس کی انگلیاں ہیں۔ ان کے نزدیک ان صفات کو "بلا کیف" (بغیر یہ پوچھے کہ کیسے) تسلیم کرنا واجب ہے۔نزول اور استواء: وہ اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر رات آخری تہائی حصے میں آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے۔ اسی طرح 'استواء علی العرش' (عرش پر بلند ہونا) اللہ کی ایک ایسی صفت ہے جو اس کی شان کے لائق ہے، اور اس کا انکار کرنا کفر ہے۔کلامِ الٰہی (قرآن) کی حقیقت شیخ عبدالقادر جیلانی کے نزدیک قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا غیر مخلوق کلام ہے۔یہ اللہ کی صفت ہے جو اس کی ذات سے الگ نہیں ہے۔اللہ کا کلام حروف اور آواز پر مشتمل ہے جو سنی جا سکتی ہے، جیسا کہ اس نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا۔ وہ اس نظریے کو رد کرتے ہیں کہ اللہ کا کلام صرف ایک نفسیاتی معنی ہے، بلکہ وہ آواز اور حروف کو ثابت مانتے ہیں جو انسانی آوازوں کے مشابہ نہیں ہیں۔خلاصہ شیخ عبدالقادر جیلانی کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کی اصل حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنی مخلوق سے بالکل جدا اور بلند ہے، لیکن اپنے علم کے ذریعے ان کے قریب ہے۔ وہ تمام صفاتِ کمال سے متصف ہے اور ان صفات کی حقیقت انسانی عقل کے ادراک سے بالاتر ہے، اس لیے مومن کا کام صرف تسلیم و رضا اور ایمان لانا ہے۔اس تصور کو سمجھنے کے لیے ایک سادہ سی مثال یوں لی جا سکتی ہے کہ جیسے سورج اپنی ذات میں آسمان کی بلندیوں پر موجود ہے، لیکن اس کی روشنی اور تپش زمین کے ہر کونے تک پہنچتی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی ذات عرش پر ہے، لیکن اس کا علم اور قدرت پوری کائنات کو اپنے احاطے میں لیے ہوئے ہے۔

کیا قرآن مجید اللہ کی صفت اور غیر مخلوق ہے؟

جی ہاں،قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور وہ اس کی ذات کی ایک صفت ہے جو کہ غیر مخلوق (uncreated) ہے۔ شیخ عبدالقادر جیلانی کے مطابق قرآن اللہ کا کلام، اس کی کتاب اور اس کی وحی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ذاتی صفات میں سے ایک صفت ہے، اسے پیدا نہیں کیا گیا (غیر مخلوق ہے) اور نہ ہی اس میں کوئی تبدیلی یا کمی بیشی کی جا سکتی ہے۔ قرآن مجید جس طرح بھی پڑھا جائے، تلاوت کیا جائے، لکھا جائے یا دلوں میں محفوظ کیا جائے، وہ ہر حالت میں اللہ کا کلام اور غیر مخلوق ہی ہے۔ ذرائع واضح کرتے ہیں کہ تلاوت کرنے والے کی زبان سے نکلنے والے الفاظ یا لکھی ہوئی تحریر، ہر صورت میں وہ کلامِ الٰہی ہی ہے۔ ذرائع کے مطابق اللہ کا کلام حروف اور آواز پر مشتمل ہے جو سنی جا سکتی ہے۔ یہ حروف (جیسے الم، حم) خود اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ اللہ کی کتاب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے براہِ راست کلام کیا اور اس کلام کو سنا گیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ اللہ کا کلام آواز کے ساتھ ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ "آگاہ رہو! اسی کے لیے خلق (پیدا کرنا) اور امر (حکم) ہے"۔ ذرائع اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کہ اللہ نے خلق اور امر کے درمیان فرق کیا ہے۔ اگر اللہ کا امر (یعنی اس کا کلام 'کن') خود مخلوق ہوتا، تو اس فرق کا کوئی فائدہ نہ رہتا۔ ذرائع کے مطابق جو شخص یہ کہتا ہے کہ قرآن مخلوق ہے، یا یہ کہتا ہے کہ اس کا قرآن پڑھنا (تلفظ) مخلوق ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنے والا ہے۔ ایسے شخص کے بارے میں امام احمد بن حنبل کا قول نقل کیا گیا ہے کہ وہ کافر ہے اور اس کے ساتھ میل جول یا اس کے پیچھے نماز پڑھنا درست نہیں۔

شیخ عبدالقادر جیلانی کے نزدیک قرآن مجید محض ایک حکایت یا ترجمانی نہیں ہے، بلکہ یہ اللہ کا وہ کلام ہے جو اس کی ذات سے نکلا اور اسی کی طرف لوٹ جائے گا۔ یہ غیر مخلوق ہے کیونکہ اللہ کی صفات مخلوق نہیں ہو سکتیں۔ اس تصور کو ایک مثال سے یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ جس طرح ایک انسان کی بول چال اس کی اپنی صفت ہوتی ہے اور جب وہ کلام کرتا ہے تو وہ کلام اس کی ذات سے الگ کوئی پیدا کردہ چیز نہیں ہوتا، اسی طرح اللہ تعالیٰ کا کلام (قرآن) اس کی صفتِ کلام ہے جو ہمیشہ سے ہے اور رہے گی، وہ اللہ کی تخلیق (مخلوق) نہیں بلکہ اس کا اپنا قول ہے۔

کیا شیخ عبدالقادر جیلانی کے نزدیک اللہ تعالی جسم اور جوہر ہے؟

شیخ عبدالقادر جیلانی کے نزدیک اللہ تعالیٰ نہ تو جسم ہے اور نہ ہی جوہر۔ اللہ تعالیٰ ایسا جسم نہیں ہے جسے چھوا جا سکے۔ وہ ایسی ہستی نہیں ہے جو مختلف اجزاء یا حصوں سے مل کر بنی ہو، اور نہ ہی اس کے لیے کوئی مادی حد یا کیفیت بیان کی جا سکتی ہے۔ وہ ایسا جوہر (substance) نہیں ہے جسے انسانی حواس کے ذریعے محسوس کیا جا سکے۔ اللہ تعالیٰ کی کوئی ایسی فطرت (nature) نہیں ہے جو دنیا کی مختلف فطرتوں جیسی ہو، اور نہ ہی اس کی کوئی ایسی ظاہری شکل و صورت ہے جو دوسری چیزوں کی طرح دکھائی دے۔ وہ نہ تو کوئی چھا جانے والی تاریکی ہے اور نہ ہی چمکنے والی کوئی (مادی) روشنی۔ انسانی تصورات اس کا احاطہ نہیں کر سکتے اور نہ ہی انسانی عقلیں اس کی حقیقت کو پوری طرح سمجھ سکتی ہیں۔ اسے انسانوں کے پیمانے پر نہیں ناپا جا سکتا اور وہ اس بات سے پاک ہے کہ اسے اس کی اپنی پیدا کردہ چیزوں کے مشابہ قرار دیا جائے۔

خلاصہ یہ کہ شیخ عبدالقادر جیلانی اللہ تعالیٰ کے لیے ان صفات (مثلاً ہاتھ، چہرہ، نزول) کو تو ثابت مانتے ہیں جو قرآن و حدیث میں آئی ہیں، لیکن وہ اسے مادی جسم، جوہر، یا اجزاء کا مجموعہ قرار دینے کی سختی سے نفی کرتے ہیں۔ شیخ عبدالقادر جیلانی اور اہل سنت کے اکابرین کے نزدیک قرآن مجید کو مخلوق قرار دینے والا شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنے والا (کافر) ہے۔

اس حوالے سے ذرائع میں درج ذیل تفصیلی احکامات اور دلائل بیان کیے گئے ہیں:

جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ قرآن مخلوق ہے، یا یہ کہے کہ قرآن کی تلاوت، الفاظ کا تلفظ، یا اس کی کتابت مخلوق ہے، وہ اللہ عزوجل پر کفر کرنے والا ہے۔ امام احمد بن حنبل سے بھی یہی منقول ہے کہ ایسا شخص کافر ہے۔ ایسے شخص کے ساتھ بیٹھنا، اس کے ساتھ کھانا پینا، یا اس کے ساتھ مسلمانوں کا نکاح کرنا جائز نہیں ہے۔ اس کے علاوہ، ایسے بدعتی کے پیچھے نماز پڑھنا درست نہیں، نہ ہی اس کی گواہی قبول کی جائے گی اور نہ ہی اسے کسی کا سرپرست (ولی) بنایا جا سکتا ہے۔ اگر ایسا شخص اپنے عقیدے پر قائم رہے تو اسے مرتد کی طرح تین دن کی مہلت دی جائے گی تاکہ وہ توبہ کر لے، اور اگر وہ توبہ نہ کرے تو اسے قتل کر دیا جائے گا۔ مرنے کے بعد اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھا جائے گا۔ اس عقیدے کی تردید میں قرآن کی آیت "آگاہ رہو! اسی کے لیے خلق (پیدا کرنا) اور امر (حکم) ہے" سے استدلال کیا گیا ہے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ اللہ نے تخلیق اور حکم (کلام) میں فرق کیا ہے۔ اگر اللہ کا کلام (جس کے ذریعے وہ 'کُن' فرما کر مخلوق پیدا کرتا ہے) خود مخلوق ہوتا، تو یہ کلام میں تکرار اور نقص ہوتا۔ ذرائع میں ایک روایت نقل کی گئی ہے کہ جب قرآن کا ذکر ہو تو کہو کہ یہ 'اللہ کا کلام ہے جو غیر مخلوق ہے' اور جو اسے مخلوق کہے وہ کافر ہے۔ (اگرچہ تذکرہ ہے کہ یہ روایت سنداً کمزور یا موضوع ہو سکتی ہے، لیکن یہ اس وقت کے علمی موقف کی عکاسی کرتی ہے)۔

شیخ عبدالقادر جیلانی کے نزدیک قرآن اللہ کی صفتِ کلام ہے، اور چونکہ اللہ کی صفات قدیم اور غیر مخلوق ہیں، اس لیے قرآن کو مخلوق کہنا اللہ کی صفت کا انکار کرنے کے مترادف ہے، جو کہ کفر ہے۔

اسے ایک تمثیل سے یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ جیسے کسی بادشاہ کا شاہی فرمان اس کی اپنی مرضی اور حکم کا اظہار ہوتا ہے جو اس کے اقتدار کا حصہ ہے، اسے بادشاہ کی بنائی ہوئی دیگر مادی چیزوں (جیسے عمارتیں یا سڑکیں) پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کوئی شاہی فرمان کو بادشاہ کی تخلیق کردہ عام چیز قرار دے، تو وہ اس کے اقتدارِ اعلیٰ کی توہین کرتا ہے۔


Comments