Jihad al-Nafs: The Foundation of Spiritual Purification (Tazkiyah) in the Teachings of Dhu al-Nun al-Misri
ذوالنون مصری کے روحانی نظام میں تزکیہ نفس کے حصول کے لیے 'جہادِ نفس' (اپنے نفس کے خلاف جنگ) کو کلیدی اور بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ یہ محض ایک عارضی کوشش نہیں بلکہ ایک مسلسل اور طویل عمل ہے جس کے بغیر سالک اپنی منزل نہیں پا سکتا۔
تزکیہ میں جہادِ نفس کی اہمیت درج ذیل نکات سے واضح ہوتی ہے:
روحانی صفائی کا لازمی ذریعہ: نفس کی پاکیزگی اور صفائی (تزکیہ) ایک طویل اور کٹھن جہادِ نفس کا نتیجہ ہوتی ہے۔ جب تک انسان اپنی خواہشات، انا اور دنیاوی لذتوں کے خلاف مسلسل جدوجہد نہیں کرتا، اس کا نفس پاک نہیں ہو سکتا۔
ربانی بصیرت کا حصول: جہادِ نفس کا سب سے بڑا ثمرہ وہ "ربانی نظر" ہے جو اللہ اپنے ان بندوں کو عطا کرتا ہے جو طویل مجاہدے سے گزرتے ہیں۔ اس مقام پر پہنچ کر بندہ اللہ کے عطا کردہ نور سے دیکھتا اور سنتا ہے۔
مشکل مقامات کی عبور: ذوالنون مصری کے نزدیک "ورع" (انتہائی پرہیزگاری) جیسے مشکل روحانی مقامات کو طے کرنے کے لیے جہادِ نفس ناگزیر ہے۔ وہ اسے ایک کٹھن راستہ قرار دیتے ہیں جس پر چل کر ہی انسان نفس کو پاک کر کے کامیابی پا سکتا ہے۔
عبادت میں خلوص: نفس کے خلاف یہ جہاد ہی انسان کو دکھاوے اور نفاق سے بچا کر خالص اللہ کی عبادت کی طرف راغب کرتا ہے۔ صوفیاء وہی ہیں جنہوں نے اپنے مجاہدہ میں خلوص اختیار کیا۔
دنیاوی علائق سے نجات: جہادِ نفس کا ایک اہم مقصد نفس کو دنیا کی عارضی آسائشوں اور فضولیات سے نکال کر اللہ کی طرف موڑنا ہے۔ یہ جدوجہد انسان کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ مادی اشیاء کے بجائے اللہ کی محبت میں سکون تلاش کرے۔

Comments
Post a Comment