Jihad al-Nafs: The Path to Divine Vision and Inner Purification in Sufi Wisdom
جہادِ نفس: باطنی صفائی اور ربانی نظر کا راستہ
نفس کی پاکیزگی اور صفائی (تزکیہ) ایک طویل اور مسلسل جہادِ نفس کا نتیجہ ہوتی ہے۔ جب کوئی سالک اپنے نفس کی بے جا خواہشات اور دنیاوی لذتوں کے خلاف جنگ کرتا ہے، تو اس کا باطن شفاف ہو جاتا ہے۔ خاص طور پر "ورع" (انتہائی پرہیزگاری) جیسے مشکل مقام تک رسائی کے لیے جہادِ نفس ضروری ہے تاکہ روح پاکیزگی اختیار کر سکے۔جب انسان طویل مجاہدے کے ذریعے اپنے نفس کو پاک کر لیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے انعام کے طور پر "ربانی نظر" عطا فرماتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں بندہ عام انسانی نظر سے ہٹ کر اللہ کے عطا کردہ نور سے دیکھتا ہے۔ ذرائع اس کیفیت کو حدیثِ قدسی کے اس مفہوم سے جوڑتے ہیں کہ اللہ ایسے بندے کے کان بن جاتا ہے جس سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھ بن جاتا ہے جس سے وہ دیکھتا ہے۔
نفس کے خلاف اس جدوجہد کو "جہادِ اکبر" (سب سے بڑا جہاد) کے طور پر دیکھا گیا ہے، جو انسان کو مادی رکاوٹوں سے آزاد کر کے روحانی بصیرت کے اعلیٰ ترین درجات تک لے جاتا ہے۔
اسے یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ نفس ایک دھندلے آئینے کی طرح ہے؛ جہادِ نفس وہ مسلسل رگڑ اور محنت ہے جو اس آئینے سے دنیاوی خواہشات کے زنگ کو دور کرتی ہے۔ جب یہ آئینہ باطنی صفائی کے ذریعے پوری طرح چمک اٹھتا ہے، تو اس میں کائنات کے وہ ربانی اسرار منعکس ہونے لگتے ہیں جو عام نظروں سے پوشیدہ ہوتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، ذوالنون مصری کے روحانی افکار میں جہادِ نفس باطنی صفائی اور ربانی نظر کے حصول کے لیے ایک ناگزیر عمل ہے، جس کی اہمیت درج ذیل نکات سے واضح ہوتی ہے:

Comments
Post a Comment