Dhikr (Remembrance) as the Key to Spiritual Longing (Shawq) in Sufism: The Teachings of Dhu al-Nun al-Misri

 ذوالنون مصری کے ارشادات کی روشنی میں، ذکر شوق کے دروازے کو کھولنے کے لیے چابی (Key) کا کردار ادا کرتا ہے۔ ذرائع کے مطابق، ذکر اور شوق کا باہمی تعلق درج ذیل اہم نکات سے واضح ہوتا ہے:



۱۔ شوق کی مخصوص چابی: ذوالنون مصری کے مطابق روحانی بصیرت اور حکمت (فطنت) کے چار دروازے ہیں، جن میں سے چوتھا اور بلند ترین دروازہ "شوق" کا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ اس دروازے کو کھولنے کی مخصوص چابی "دل اور زبان سے اللہ کا مسلسل ذکر کرنا" ہے۔

۲۔ نورِ الٰہی کا نزول: جب کوئی بندہ اپنے دل اور زبان کو ذکرِ الٰہی میں پوری طرح مشغول کر لیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے انعام کے طور پر اس کے دل میں شوق کا نور ڈال دیتا ہے۔ یہی وہ نور ہے جو اسے مشاہدۂ حق کی طرف لے جاتا ہے۔

۳۔ درجۂ ولایت کا حصول: ذکر کے ذریعے شوق کا دروازہ کھلنا دراصل درجۂ ولایت پر فائز ہونا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سالک کا دل غیر اللہ سے خالی ہو کر صرف اپنے محبوب (خالق) کی یاد میں تڑپتا ہے۔

۴۔ محبت سے شوق تک کا سفر: ذکر وہ عمل ہے جو ابتدائی روحانی مقامات (جیسے خوف اور رجا) سے گزار کر سالک کو محبتِ الٰہی کے اس درجے پر پہنچاتا ہے جہاں وہ اپنے رب کی ملاقات کے لیے بے چین ہو جاتا ہے۔

تمثیل: اسے یوں سمجھا جا سکتا ہے جیسے کوئی تالا ایک مخصوص چابی کے بغیر نہیں کھلتا، بالکل اسی طرح شوق کا دروازہ بھی تب تک بند رہتا ہے جب تک اسے مسلسل ذکر کی چابی سے نہ کھولا جائے؛ جیسے ہی یہ چابی گھومتی ہے، سالک پر اللہ کے نور اور معرفت کے راز عیاں ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

Comments