ذوالنون مصری کی روحانی زندگی اور ان کے ارتقاء کو درج ذیل اہم مراحل میں تقسیم کیا جا سکتا ہے
۔ ابتدائی یا عام مرحلہ (المرحلہ العادیہ)
ذوالنون مصری نے اپنی ابتدائی زندگی کے بارے میں خود فرمایا کہ وہ "کھیل کود اور لہو و لعب میں مشغول رہنے والے نوجوان" تھے۔ ذرائع اس دور کو "پہلا عام مرحلہ" قرار دیتے ہیں، جس میں وہ دنیاوی امور، تجارت اور تاجروں کے ساتھ سفر میں مصروف رہتے تھے۔
۔ بیداری اور سچی توبہ (التوبہ)
ان کی زندگی میں روحانی تبدیلی کا آغاز ایک گہری بیداری اور توبہ سے ہوا۔ ذرائع میں اس تبدیلی کے مختلف اسباب ذکر کیے گئے ہیں:
اندھے پرندے کا مشاہدہ: صحرا میں ایک اندھے پرندے کو دیکھنا جس کے لیے زمین سے سونے کے پیالے میں تل اور چاندی کے پیالے میں پانی برآمد ہوا۔ اس واقعے نے انہیں اللہ کی رزاقی پر کامل یقین دلایا۔
زندگی کے تضادات: ایک شادی کی محفل اور اس کے فوراً بعد جنازہ دیکھ کر انہیں احساس ہوا کہ عقلمندی اللہ کی نعمتوں پر شکر اور آزمائش پر صبر کرنے میں ہے۔
حج کا سفر: حج کی طرف روانگی اور خلوصِ نیت کو ان کی زندگی میں توبہ کا بنیادی موڑ قرار دیا گیا ہے۔ تصوف میں "توبہ" کو روحانی سفر کا پہلا مقام مانا جاتا ہے۔
۔ مرید اور تزکیہ نفس کا مرحلہ
توبہ کے بعد وہ "تزکیہ" (نفس کی پاکیزگی) کے راستے پر چل پڑے اور ایک سچے "مرید" کہلائے۔ اس مرحلے میں انہوں نے مختلف روحانی مقامات طے کیے:
ذکر: توبہ کے بعد اللہ کی مسلسل یاد میں مشغول ہونا۔
ورع اور زہد: انتہائی پرہیزگاری اختیار کرنا اور دنیاوی آسائشوں سے کنارہ کشی اختیار کرنا۔
توکل اور رضا: اپنی تمام ضروریات کے لیے صرف اللہ پر بھروسہ کرنا اور اس کے ہر فیصلے پر دل سے راضی ہو جانا۔
۔ معرفت، محبت اور شوقِ الہی
یہ ان کی روحانی زندگی کا وہ بلند ترین مقام ہے جہاں وہ ایک "عارف" (اللہ کو پہچاننے والے) بن کر ابھرے:
معرفت: انہوں نے معرفت کو تین درجات میں تقسیم کیا، جس میں اعلیٰ ترین درجہ اللہ کی صفات کا وہ علم ہے جو صرف اولیاء کو حاصل ہوتا ہے۔
محبت اور انس: اللہ کی ذات کے ساتھ ایسی گہری محبت کہ انسان ہر وقت اپنے محبوب (خالق) کے دھیان میں رہے اور خلوت میں اس کی قربت سے سکون پائے۔
شوق: ذرائع کے مطابق "شوق" تمام مقامات میں سب سے بلند ہے؛ یہ وہ کیفیت ہے جب روح اپنے رب سے ملاقات کے لیے اس قدر بے چین ہو جائے کہ اسے موت بھی ایک خوبصورت وصال نظر آنے لگے۔
تمثیل: ذوالنون مصری کے اس سفر کو پہاڑ سر کرنے سے تشبیہ دی جا سکتی ہے؛ ان کا "عام مرحلہ" وادی میں گزاری گئی زندگی تھی، "توبہ" پہاڑ چڑھنے کا پختہ ارادہ تھا، "تزکیہ کے مقامات" وہ کٹھن راستے اور چٹانیں تھیں جنہیں انہوں نے عبور کیا، اور "شوق" وہ بلند ترین چوٹی ہے جہاں پہنچ کر نظر صرف خالقِ کائنات کی طرف ہوتی ہے۔

No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.