Spiritual Exercises for the Heart: Dhu al-Nun al-Misri’s Path to Divine Proximity

 ذوالنون مصری کے نزدیک دل کو دنیاوی شور اور غفلت سے بچانے کے لیے محض ظاہری عبادات کافی نہیں، بلکہ انہوں نے چند مخصوص روحانی مشقیں اور عملی طریقے بیان کیے ہیں جن کے ذریعے دل کو مادی اثرات سے پاک کر کے الہی اسرار کے لیے تیار کیا جا سکتا ہے۔ ان میں سب سے اہم مشق اللہ کا مسلسل ذکر ہے، جسے وہ شوق کا دروازہ کھولنے کی چابی قرار دیتے ہیں جو دل کو غیر اللہ کی یاد سے خالی کر کے اسے الٰہی نور سے بھر دیتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ قطعِ علائق یعنی دنیاوی تعلقات اور مادی رغبتوں کو کاٹ پھینکنے پر زور دیتے ہیں تاکہ بندہ دنیا کے فریب سے نکل کر اللہ کی محبت کی حقیقی مٹھاس محسوس کر سکے۔ خلوت اور تنہائی کو بھی وہ دل کی صفائی کے لیے لازمی قرار دیتے ہیں، جہاں اللہ سے مناجات کرنا انسان کو انس اور قربتِ الہی کی اس منزل تک پہنچاتا ہے جہاں دنیا کی باتیں وحشت اور اللہ کا ذکر سکون بن جاتا ہے۔ ایک منفرد عملی مشق میزانِ عدل کا قیام ہے، جس کا مطلب اپنے تمام اعضاء اور سوچ کو انصاف کے ترازو پر پرکھنا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ عمل اللہ کے لیے ہے یا نفس کے لیے، یہاں تک کہ دل پوری طرح نقی اور خالص ہو جائے۔ دل کی حفاظت کے لیے وہ مجاہدہ اور نفس کے خلاف مسلسل جنگ کو بھی ناگزیر سمجھتے ہیں تاکہ سالک دنیاوی وسوسوں کو پہچان کر انہیں رد کر سکے۔ مزید برآں، وہ موت کو ہر وقت پیشِ نظر رکھنے کی نصیحت کرتے ہیں کیونکہ یہ مشق دل سے دنیا کی حرص اور فضول تمناؤں کے شور کو ختم کرنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوتی ہے۔ اسے تمثیل کے طور پر یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ دل ایک ایسے مکان کی مانند ہے جس کے چاروں طرف تیز شور ہو؛ خلوت اس مکان کی کھڑکیاں بند کرنے کے مترادف ہے، ذکر اس کے اندر روشن چراغ ہے، اور قطعِ علائق اس مکان سے وہ تمام فضول سامان نکال پھینکنے کا نام ہے جو مکین کو اصل مالک کی طرف متوجہ ہونے سے روکتا ہے۔

Comments