Tazkiyah: The Metaphysics of Purifying the Heart from Worldly Noise in Sufi Thought
تزکیہ: دنیاوی شور سے دل کی حفاظت کا ذریعہ
تزکیہ (پاکیزگی) وہ روحانی مرحلہ ہے جو انسانی دل کو دنیاوی شور، یعنی مادی خواہشات اور غفلت سے بچا کر اسے الہی اسرار کے مشاہدے کے قابل بناتا ہے۔ اس عمل کے ذریعے دل کی حفاظت درج ذیل طریقوں سے ہوتی ہے: (1) تزکیہ دراصل ایک طویل "جہادِ نفس" کا نتیجہ ہے۔ جب کوئی سالک مسلسل جدوجہد سے اپنے نفس کو پاک کرتا ہے، تو اسے وہ "ربانی بصیرت" حاصل ہوتی ہے جو عام لوگوں کی نظر سے پوشیدہ ہوتی ہے۔(2) تزکیہ کا ایک لازمی جز دنیاوی شور اور مادی لگاؤ کو ختم کرنا ہے، جسے "قطع العلائق" کہا جاتا ہے۔ جب دل دنیا کے فریب اور کھیل کود کے فضول تعلقات کو کاٹ دیتا ہے، تبھی وہ الہی مٹھاس اور قربت محسوس کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ (3) ذوالنون مصری کو دی گئی ایک نصیحت کے مطابق، تزکیہ یہ ہے کہ اپنے اعضاء پر "میزانِ عدل" قائم کیا جائے یہاں تک کہ وہ سب کچھ پگھل جائے جو غیر اللہ کے لیے ہے۔ جب دل خالص ہو جاتا ہے، تو اس میں اللہ کے سوا کسی دوسری چیز کی گنجائش نہیں رہتی، جو اسے دنیاوی اثرات سے محفوظ رکھتا ہے۔(4) تزکیہ کے عمل میں مسلسل ذکر دل کے لیے ایک ڈھال کا کام کرتا ہے۔ جب دل ذکرِ الہی سے معمور ہوتا ہے، تو اللہ اس میں اپنے نور کا ایک خاص راز (نورِ اشتیاق) ڈال دیتا ہے، جو دنیاوی فتنوں اور شور کے درمیان ایک مضبوط رکاوٹ بن جاتا ہے۔ (5) اللہ اپنے ان بندوں کو جن کا تزکیہ مکمل ہو چکا ہو، "دلوں کی آنکھیں" عطا فرماتا ہے۔ یہ بصیرت انہیں دنیاوی زندگی کی اصل حقیقت دکھا دیتی ہے، جس کے نتیجے میں وہ دنیا کے شور و غل کے بجائے آخرت اور وصالِ الہی پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔
اسے یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ دل ایک آئینے کی طرح ہے؛ دنیاوی شور اس پر پڑنے والی گرد و غبار ہے، جبکہ تزکیہ اس آئینے کو مسلسل صاف کرنے کا عمل ہے۔ جب آئینہ صاف ہو جاتا ہے، تو وہ دنیا کی کثافت دکھانے کے بجائے صرف سورج (الہی تجلیات) کے نور کو منعکس کرتا ہے۔


Comments
Post a Comment