The Concept of Basirah: Understanding Divine Insight and the Spiritual Vision in Sufism
ذوالنون مصری کے نزدیک باطنی بصیرت سے مراد وہ ربانی نظر ہے جو عام انسانی بصارت سے مکمل طور پر مختلف اور بلند ہوتی ہے۔ ان کے روحانی نظام میں باطنی بصیرت دراصل دل کی آنکھوں کا کھل جانا ہے، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے مخصوص بندوں کو یہ خصوصیت عطا فرماتا ہے کہ وہ غیب کے چھپے ہوئے اسرار اور ملکوتِ سماوات کے عجائبات کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ جب کوئی سالک اس مقام پر پہنچتا ہے تو وہ اپنی مادی آنکھوں کے بجائے اللہ کے عطا کردہ نور سے دیکھتا ہے، جسے اس حدیثِ قدسی کی عملی تفسیر قرار دیا جاتا ہے جس میں اللہ فرماتا ہے کہ میں اس بندے کے کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے۔ ذوالنون مصری کے مطابق یہ بصیرت ایک طویل اور کٹھن جہادِ نفس کا ثمرہ ہے، کیونکہ جب نفس مسلسل مجاہدے کے ذریعے پوری طرح پاک اور صاف ہو جاتا ہے، تبھی وہ الٰہی تجلیات اور اسرار کو قبول کرنے کے قابل بنتا ہے۔ باطنی بصیرت کا حامل شخص کائنات کے ظاہری ہنگاموں کے پیچھے چھپے ہوئے ربانی رازوں کو پا لیتا ہے اور اسے وہ باتیں سنائی اور دکھائی دیتی ہیں جو عام انسانی ادراک سے باہر ہوتی ہیں، جس کے نتیجے میں وہ ہر حال میں اپنے رب کی حضوری اور اس کا مشاہدہ کرتا ہے۔ اسے تمثیل کے طور پر یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ عام انسان کی نظر ایک بند کمرے کی دیواروں تک محدود ہوتی ہے، لیکن جس کے پاس باطنی بصیرت ہو، اس کے لیے یہ دیواریں شفاف آئینے کی مانند بن جاتی ہیں، جس کے پار وہ کائنات کی وہ وسعتیں اور ربانی مشاہدات دیکھ سکتا ہے جو دوسروں کی نظر سے اوجھل ہوتے ہیں۔

Comments
Post a Comment